مجهے وہ کیا سمجهتا ہے

ہوں کوئ موم کی گڑیا
یا کوئ پهول ناذک سا
کوئ آسان بهاشا ہوں
مداری کاتماشا ہوں
سامان دل لگی کا ہوں
شعلہ پهلجهڑی کا ہوں
مجهے وہ کیا سمجهتا ہے
اگر یہ سب سمجهتا ہے تو
یہ اسکی غلط فہمی
نہیں ہوں میں موم کی گڑیا
نہ کوئی پهول ناذک سا
بہت انجان بهاشا ہوں
نہ میں بے جان لاشہ ہوں

اگر شعلہ سمجهتا ہے
جلا کر راکهہ کر دونگی
ذباں سے لفظ بولونگی
جگر چهلنی میں کر دونگی
اگر مجهہ سے وہ الجهے گا
اسے ایسا سبق دونگی
کہ میں
اک سیپ کا موتی
جو صدیوں بنتا ہے
نہیں میں عام سی لڑکی
شوق پرواز ہے میرا
قلم پر ہاتهہ ہے میرا
اگر چاہوں قلم سے میں
اسکا سر قلم کر دوں
مجهے وہ کیا سمجهتا ہے
وہ پهر سے سوچ لےشاید